المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رشيد بن مالك أبو عميرة السعدي باب: سیدنا رشید بن مالک ابوعمیرہ سعدی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 4617
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مَرْوَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا: ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ طَلْقٍ قَالَتْ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمِيرَةَ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ، فَقَالَ لَهُ: «مَا هَذَا أَهَدِيَّةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟» قَالَ الرَّجُلُ: صَدَقَةٌ، قَالَ: «فَقَدِّمْهَا إِلَى الْقَوْمِ» قَالَ: وَحَسَنٌ بَيْنَ يَدَيْهِ يَتَعَفَّرُ، قَالَ: فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ، قَالَ: فَفَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَهُ فِي فِيِّ الصَّبِيِّ، فَانْتَزَعَ التَّمْرَةَ ثُمَّ قَذَفَهُ بِهَا، وَقَالَ: «إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ»ترجمہ
سیدنا ابوعمیرہ رشید بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک تھال لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”یہ کیا ہے، ہدیہ ہے یا صدقہ؟“ اس آدمی نے کہا: صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے لوگوں کے سامنے رکھ دو۔“ کہتے ہیں: اور حسن رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے، تو بچے نے ایک کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ لیا اور اپنی انگلی بچے کے منہ میں ڈال کر وہ کھجور نکال دی، پھر اسے پھینک دیا اور فرمایا: ”ہم آلِ محمد صدقہ نہیں کھاتے۔“