حدیث نمبر: 4615
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ فَهِدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا نَائِلُ بْنُ مُطَرِّفٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي رَزِينِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَلَنَا بِئْرٌ بِالدَّنِينَةِ، خِفْنَا أَنْ يَغْلِبَنَا عَلَيْهَا مَنْ حَوْلَنَا، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: وَكَتَبَ لِي كِتَابًا: «مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ لَهُمْ بِئْرَهُمْ إِنْ كَانَ صَادِقًا» قَالَ: فَمَا قَاضَيْنَا فِيهِ إِلَى أَحَدٍ مِنْ قُضَاةِ الْمَدِينَةِ إِلَّا قَضَوْا لَنَا بِهِ، قَالَ: وَفِي كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَذَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ كَذَا كَانَ كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا رزین بن انس سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اسلام ظاہر ہوا تو ہمارا ایک کنواں دُنینہ میں تھا، ہمیں خدشہ ہوا کہ ہمارے آس پاس کے لوگ اس پر قبضہ کر لیں گے۔ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے میرے لیے ایک تحریر لکھوائی: ”محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے، امّا بعد! ان کا کنواں انہی کا ہے، اگر یہ سچا ہے۔“ کہتے ہیں: پھر ہم نے مدینہ کے جس قاضی کے پاس بھی اس کا فیصلہ کرایا، اس نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی تحریر میں یوں (تفصیل) تھی، اور ان کا خیال تھا کہ نبی کریم ﷺ کی تحریر اسی طرح کی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4615
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 75، حدیث 4630