المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ربيع بن زيد غير منسوب باب: سیدنا ربیع بن زید رضی اللہ عنہ (نسب معلوم نہیں)
حدیث نمبر: 4593
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ وَبَرَةَ أَبَا كُرْزٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَ بْنَ زِيَادٍ يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ إِذْ بَصَرَ شَابًّا مِنْ قُرَيْشٍ يَسِيرُ مُعْتَزِلًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ ذَاكَ فُلَانٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَادْعُوهُ» فَجَاءَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ اعْتَزَلْتَ عَنِ الطَّرِيقِ؟» قَالَ: كَرِهْتُ الْغُبَارَ قَالَ: «فَلَا تَعْتَزِلْهُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَذَرِيرةُ الْجَنَّةِ»ترجمہ
…ابوکرز رحمہ اللہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے سیدنا ربیع بن زیاد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ایک بار رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے کہ آپ ﷺ نے قریش کے ایک نوجوان کو الگ تھلگ چلتے دیکھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا یہ فلاں نہیں ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے بلاؤ۔“ وہ آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ تم راستے سے الگ ہو گئے؟“ اس نے کہا: مجھے گرد و غبار پسند نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے الگ مت ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ جنت کی خوشبو ہے۔“