المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ربيع الأنصاري باب: سیدنا ربیع انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ ابْنَ أَخِي جَبْرَ الْأَنْصَارِيَّ، فَجَعَلَ أَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُمْ جَبْرٌ: لَا تُؤْذُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَلْيَبْكِينَ مَا دَامَ حَيًّا، فَإِذَا وَجَبَ فَلْيَسْكُتْنَ» فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا كُنَّا نَرَى أنْ يَكُونَ مَوْتُكَ عَلَى فِرَاشِكَ، حَتَّى تُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مَا الشَّهَادَةُ إِلَّا فِي الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لَقَلِيلٌ، إِنَّ الطَّعْنَ وَالطَّاعُونَ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنَ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءَ بِجُمُعٍ شَهَادَةٌ وَالْحَرَقَ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقَ شَهَادَةٌ وَالْهَدْمَ شَهَادَةٌ وذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ»…تو اس کے گھر والے اس پر رونے لگے، تو جبر نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ کو تکلیف مت دو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، وہ روتی رہیں جب تک وہ مریض زندہ ہے، اور جب اس کی موت واقع ہو جائے تو وہ خاموش ہو جائیں۔“ تو ان میں سے کسی نے کہا: ہمارا خیال نہیں تھا کہ تمہاری موت اپنے بستر پر ہوگی، بلکہ ہمیں امید تھی کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کی راہ میں شہید ہو گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا شہادت صرف اللہ کی راہ میں قتل ہونے میں ہی ہے؟ اگر ایسا ہو تو میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے۔ بےشک نیزے سے زخمی ہو کر مرنا اور طاعون سے مرنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنا شہادت ہے، زچگی میں مرنے والی عورت شہید ہے، آگ سے جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، دب کر مرنا شہادت ہے، اور نمونیہ سے مرنا بھی شہادت ہے۔“