حدیث نمبر: 4565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِي، ثنا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ» فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي؟ قَالَ: «أَبُوكَ فُلَانٌ الَّذِي تُدْعَى إِلَيْهِ» وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا؟ فَقَالَ: «فِي الْجَنَّةِ» وَقَالَ آخَرُ: أَفِي الْجَنَّةِ أَنَا؟ قَالَ: «فِي النَّارِ» فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَضِينَا بِاللهِ رِبًا
ترجمہ

ابوفراس، اسلم قبیلے کے ایک شخص، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”مجھ سے جو چاہو پوچھو۔“ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا باپ فلاں ہے جس کی طرف تمہیں منسوب کیا جاتا ہے۔“ ایک شخص نے پوچھا: کیا میں جنت میں جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ اور ایک اور شخص نے پوچھا: کیا میں جنت میں جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم میں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4565
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 60، حدیث 4580