حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ: «اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ» فَجَمَعَهُمْ فَكَانُوا بِالْبَابِ فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» قَالُوا: لَا، ابْنُ أُخْتِنَا وَمَوْلَانَا فَقَالَ: «ابْنُ أُخْتِكُمْ وَمَوْلَاكُمْ مِنْكُمْ» فَقَالَ: «إِنَّ أَوْلِيَائِيَ مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، إِيَّاكُمْ أنْ يَأْتُونِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ وتَجِيئُونِي بِالْأَثْقَالِ تَحْمِلُونَهَا عَلَى ظُهُورِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ صَبْرٍ وَأَمَانَةٍ، فَمَنْ بَغَى لَهُمُ الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللهُ لِوَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے لیے اپنی قوم کو جمع کرو۔“ تو انہوں نے انہیں جمع کیا اور وہ دروازے پر تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی تمہارے علاوہ بھی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، ہمارا بھانجا اور ہمارا آزاد کردہ غلام ضرور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا بھانجا اور تمہارا آزاد کردہ غلام تم میں سے ہے۔“ پھر فرمایا: ”بےشک تم میں سے میرے قریبی وہی ہیں جو متقی ہوں، اس بات سے بچو کہ لوگ میرے پاس نیک اعمال لے کر آئیں اور تم بوجھ لے کر آؤ جسے تم اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہو۔“ پھر فرمایا: ”بےشک قریش صبر اور امانت والے لوگ ہیں، پس جو ان کے لیے ٹھوکریں چاہے، اللہ اسے قیامت کے دن اوندھے منہ گرا دے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4532
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 46، حدیث 4547