المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ اور بدر میں شریک
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَقُصُّ فَقَالَ فِي قَصَصِهِ: إِذَا خَالَطَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ، فَلَمْ يُمْنِ فَلَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ فَلْيَغْسِلْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: ائْتِنِي بِهِ لِأَكُونَ عَلَيْهِ شَهِيدًا، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ لَهُ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ تَضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرَ عِلْمٍ، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا وَاللهِ مَا ابْتَدَعْتُهُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ أَعْمَامِي، قَالَ: أَيُّ أَعْمَامِكَ؟ قَالَ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَرِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأَبُو أَيُّوبَ، فَقَالَ رِفَاعَةُ وَكَانَ حَاضِرًا: لَا تَنْهَرْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَدْ كُنَّا وَاللهِ نَصْنَعُ هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَصْلُحُ، فَقَالَ: مَنْ أَسْأَلُ بَعْدَكُمْ يَا أَهْلَ بَدْرٍ الْأَخْيَارَ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَرْسِلْ إِلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَا عَلِمَ لِي، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ثُمَّ أَفَاضُوا فِي ذَكْرِ الْعَزْلِ، فَقَالُوا: لَا بَأْسَ، فَسَارَّ رَجُلٌ صَاحِبَهُ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْمُنَاجَاةُ؟ أَحَدُهُمَا يَزْعُمُ أَنَّهَا الْمَوْؤُودَةُ الصُّغْرَى، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّهَا لَا تَكُونُ مَوْءُودَةً حَتَّى تَمُرَّ بِسَبْعِ تَارَاتٍ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ طِينٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَكِينٍ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةَ فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةَ فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنْشَأَنْاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ} [المؤمنون: ١٣] فَتَفَرَّقُوا عَلَى قَوْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ…معمر بن ابی حبیبہ عبید بن رفاعہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ لوگوں کو قصہ خوانی کرتے تھے، تو انہوں نے اپنی مجلس میں یہ فرمایا: جب آدمی عورت سے مباشرت کرے اور انزال نہ ہو تو اس پر غسل واجب نہیں، وہ اپنی شرمگاہ دھو لے اور وضو کر لے۔ تو مجلس میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ذکر کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس پر گواہ رہوں۔ جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: اے اپنی جان کے دشمن! تم بغیر علم کے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہو۔ اس نے کہا: اے امیر المومنین! اللہ کی قسم، میں نے یہ اپنی طرف سے نہیں گھڑا، بلکہ میں نے یہ اپنے چچاؤں سے سنا ہے۔ فرمایا: کن چچاؤں سے؟ اس نے کہا: ابی بن کعب، رفاعہ بن رافع اور ابوایوب رضی اللہ عنہم سے۔ تو سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ نے، جو وہاں موجود تھے، کہا: اے امیر المومنین! اسے مت جھڑکیں، اللہ کی قسم، ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں کوئی بات معلوم ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ معاملہ درست نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اہلِ بدر، نیک لوگوں کے بعد میں کس سے پوچھوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: امہات المومنین کے پاس کسی کو بھیجیں۔ تو انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، انہوں نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: جب دونوں ختنہ گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ پھر وہ عزل کے موضوع میں مشغول ہو گئے، تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ تو ایک شخص نے اپنے ساتھی سے سرگوشی کی، اس نے پوچھا: یہ سرگوشی کیسی ہے؟ اس نے کہا: ان میں سے ایک کا خیال ہے کہ یہ عزل چھوٹی موؤدہ (زندہ درگور کیے جانے والی بچی) ہے۔ تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ موؤدہ نہیں ہو سکتی جب تک وہ سات مراحل سے نہ گزرے، اللہ عزوجل نے فرمایا: ’اور بےشک ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا، پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ میں نطفہ بنایا، پھر ہم نے نطفے کو جما ہوا خون بنایا، پھر جمے ہوئے خون کو لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کو ہڈیاں بنایا، پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا، پھر ہم نے اسے ایک اور تخلیق میں اٹھایا، تو بہت بابرکت ہے اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے‘ [سورۃ المومنون: 13-14]۔“ تو لوگ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اس بات پر متفق ہو کر منتشر ہوئے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔