المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ اور بدر میں شریک
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْكَرَابِيسِيُّ قَالَا: ثنا رِفَاعَةُ بْنُ يَحْيَى إِمَامُ مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ رِفَاعَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَعَطَسَ رِفَاعَةُ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيْنَ الْمُتَكَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ؟» قَالَ رِفَاعَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي غَرِمْتُ غُرَّةً مِنْ مَالِ وَإِنِّي لَمْ أشْهَدْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الصَّلَاةَ حِينَ قَالَ: «أَيْنَ الْمُتَكَلِّمُ؟» فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «كَيْفَ قُلْتُ؟» قَالَ: قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ مُبَارَكًا عَلَيْهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعًا وَثَلَاثُونَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا»…سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کو چھینک آئی، تو انہوں نے کہا: ”الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ مبارکا علیہ کما یحب ربنا ویرضی“ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت والی، جس طرح ہمارا رب پسند کرتا اور راضی ہوتا ہے)۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”نماز میں بولنے والا کون تھا؟“ سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری خواہش تھی کہ میں اپنے مال میں سے کچھ تاوان دے دیتا اور اس نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر نہ ہوتا، جب آپ ﷺ نے فرمایا: ”بولنے والا کون تھا؟“ تو میں نے کہا: میں تھا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے کہا: میں نے کہا تھا: ”الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ مبارکا علیہ کما یحب ربنا ویرضی۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تیس سے زیادہ فرشتے اس کی طرف جلدی کر رہے تھے کہ ان میں سے کون اسے آسمان کی طرف لے کر چڑھے۔“