المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا رفاعہ بن رافع زرقی انصاری رضی اللہ عنہ، بیعت عقبہ اور بدر میں شریک
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَالِكٍ الزُّرَقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَأَعَادَ عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ أَوِ الرَّابِعَةَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَوْلَهُ الْأَوَّلَ، قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَالَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ لَقَدِ اجْتَهَدْتُ وَحَرَصْتُ فَأَرِنِي وَعَلِّمْنِي قَالَ: «إِذَا أَرَدْتَ أنْ تُصَلِّيَ فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرْ، وَاقْرَأْ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ رَافِعًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَاعِدًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ، فَإِذَا أَتْمَمْتَ عَلَى هَذَا صَلَاتَكَ فَقَدْ أَتْمَمْتَ، وَمَا نَقَصْتَ مِنْ هَذَا، فَإِنَّمَا تَنْقُصُهُ مِنْ نَفْسِكَ»…اور نبی کریم ﷺ اسے دیکھ رہے تھے، پھر وہ آیا اور نبی کریم ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے جواب دیا، پھر فرمایا: ”جاؤ، دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ راوی کہتے ہیں: تو وہ واپس گیا اور نماز پڑھی، پھر آیا اور سلام کیا، آپ ﷺ نے سلام کا جواب دیا، پھر فرمایا: ”جاؤ، دوبارہ نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ تیسری یا چوتھی بار بھی یہی دہرایا، اور نبی کریم ﷺ وہی پہلی بات فرماتے رہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر کتاب نازل کی، میں نے کوشش کی اور بہت محنت کی، تو آپ مجھے سکھا دیں اور دکھا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھنا چاہو تو اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہو، پھر قرأت کرو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع میں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ بیٹھنے میں اطمینان ہو جائے، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدے میں اطمینان ہو جائے، پھر اٹھو، اگر تم نے اپنی نماز اسی طرح مکمل کی تو تم نے اسے مکمل کیا، اور اگر اس میں سے کچھ کم کیا تو تم نے اپنی نماز میں سے کمی کی۔“