المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رفاعة بن عبد المنذر أبو لبابة الأنصاري " من بني عمرو بن عوف، ثم من بني أمية بن زيد ويقال بشر بن عبد المنذر، ويقال بشير بن عبد المنذر " باب: سیدنا رفاعہ بن عبدالمنذر ابولبابہ انصاری رضی اللہ عنہ (بنو عمرو بن عوف سے، پھر بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتے تھے، انہیں بشر بن عبدالمنذر اور بشیر بن عبدالمنذر بھی کہا گیا ہے)
حدیث نمبر: 4492
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ «كَانَ - بَعْدَمَا أَخْبَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا أَخْبَرَهُ - إِذَا رَآهُ تَوَعَّدَ وَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ، وَرُبَّمَا أَمَرَنَا مَعًا نَحْمِلُهُ حَتَّى نُلْقِيَهُ»ترجمہ
…سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ معمول تھا - اس کے بعد کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ ﷺ سے وہ بات بتائی جو انہیں بتائی - کہ جب وہ گھر کے سانپ کو دیکھتے تو اسے ڈراتے اور اس کی طرف بڑھتے، اور بسا اوقات ہمیں حکم دیتے کہ ہم سب مل کر اسے اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دیں۔