حدیث نمبر: 4491
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ، أَخْبَرَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ»
وَقَالَ: «كُلُّكُمُ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، أَلَا فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُمْ، وَامْرَأَةُ الرَّجُلِ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا، وَهِي مَسْؤُولةٌ عَنْهُ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ، وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ»
ترجمہ

سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا۔
اور فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، خبردار! لوگوں پر مقرر امیر نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا، اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگران ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4491
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 32، حدیث 4506