المعجم الكبير للطبراني
باب الراء— حرف را سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرة بنت عبد الرحمن، عن رافع باب: عمرہ بنت عبدالرحمن کی سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَدَّادٍ الْعَامِرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ مِنْبَرِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِمَكَّةَ، وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَرْوَانُ مَكَّةَ وَفَضْلَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدَ رَافِعٌ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ قَدْ أَسَنَّ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَالَ: أَيُّهَا ذَا الْمُتَكَلِّمُ أَرَاكَ قَدْ أَطْنَبْتَ فِي مَكَّةَ، وَذَكَرْتَ مِنْهَا فَضْلًا، وَمَا سَكَتَّ عَنْهُ مِنْ فَضْلِهَا أَكْبَرُ وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَدِينَةُ خَيْرٌ مِنْ مَكَّةَ»عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ مکہ میں مروان بن حکم کے منبر کے پاس بیٹھے تھے، اور مروان لوگوں سے خطاب کر رہا تھا، تو مروان نے مکہ اور اس کی فضیلت کا ذکر کیا، اور مدینہ کا ذکر نہ کیا، تو سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو اس بات پر تکلیف محسوس ہوئی، اور وہ بوڑھے ہو چکے تھے، تو وہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: اے بولنے والے! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے مکہ کے بارے میں طویل بات کی ہے، اور اس کی کچھ فضیلت بیان کی ہے، حالانکہ جو فضیلت تم نے بیان نہیں کی وہ اس سے بھی بڑی ہے، اور تم نے مدینہ کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”مدینہ مکہ سے بہتر ہے۔“