حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُلْوَانُ بْنُ دَاوُدَ الْبَجَلِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَأَلْتُهُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ، فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَقُلْتُ: أَصْبَحْتَ بِحَمْدِ اللهِ بَارِئًا، فَقَالَ: «أَمَا إِنِّي عَلَى مَا تَرَى وَجِعٌ، وَجَعَلْتُمْ لِي شُغُلًا مَعَ وَجَعِي، جَعَلْتُ لَكُمْ عَهْدًا مِنْ بَعْدِي، وَاخْتَرْتُ لَكُمْ خَيْرَكُمْ فِي نَفْسِي فَكُلُّكُمْ وَرِمَ لِذَلِكَ أَنْفُهُ رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ لَهُ، وَرَأَيْتُ الدُّنْيَا قَدْ أَقْبَلَتْ وَلَمَّا تُقْبِلْ وَهِيَ جَائِيَةٌ، وَسَتُنَجِّدُونَ بُيُوتَكُمْ بِسُوَرِ الْحَرِيرِ، وَنَضَائِدِ الدِّيبَاجِ، وَتَأْلَمُونَ ضَجَائِعَ الصُّوفِ الْأَذْرِيِّ، كَأَنَّ أَحَدَكُمْ عَلَى حَسَكِ السَّعْدَانِ، وَوَاللهِ لَأَنْ يَقْدَمَ أَحَدُكُمْ فَيُضْرَبَ عُنُقُهُ، فِي غَيْرِ حَدٍّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسِيحَ فِي غَمْرَةِ الدُّنْيَا» ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنِّي لَا آسَى عَلَى شَيْءٍ، إِلَّا عَلَى ثَلَاثٍ فَعَلْتُهُنَّ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ، وَثَلَاثٍ لَمْ أفْعَلْهُنَّ وَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُهُنَّ، وَثَلَاثٍ وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُنَّ، فَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْهُنَّ: فَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ كَشَفْتُ بَيْتَ فَاطِمَةَ وَتَرَكْتُهُ، وَأَنْ أَغْلِقَ عَلَيَّ الْحَرْبَ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ سَقِيفَةَ بَنِي سَاعِدَةَ كُنْتُ قَذَفْتُ الْأَمْرَ فِي عُنُقِ أَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: أَبِي عُبَيْدَةَ أَوْ عُمَرَ، فَكَانَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَكُنْتُ وَزِيرًا، وَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ كُنْتُ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أَهْلِ الرِّدَّةِ، أَقَمْتُ بِذِي الْقَصَّةِ فَإِنْ ظَفِرَ الْمُسْلِمُونَ ظَفِرُوا، وَإِلَّا كُنْتُ رِدْءًا أَوْ مَدَدًا، وَأَمَّا اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي فَعَلْتُهَا: فَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أُتِيتُ بِالْأَشْعَثِ أَسِيرًا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَإِنَّهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يَكُونُ شَرَّ الْإِطَارِ إِلَيْهِ، وَوَدِدْتُ أَنِّي يَوْمَ أُتِيتُ بِالْفَجَاةِ السُّلَمِيَّ لَمْ أَكُنْ أَحْرِقُهُ، وَقَتَلْتُهُ سَرِيحًا، أَوْ أطْلَقْتُهُ نَجِيحًا، وَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ وَجَّهْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى الشَّامِ وَجَّهْتُ عُمَرَ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَكُونُ قَدْ بَسَطْتُ يَدَيْ يَمِينِي وَشِمَالِي فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا الثَّلَاثُ اللَّاتِي وَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْهُنَّ، فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ فَلَا يُنَازِعُهُ أَهْلُهُ، وَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ سَأَلْتُهُ هَلْ لِلْأَنْصَارِ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَبَبٌ، وَوَدِدْتُ أَنِّي سَأَلْتُهُ عَنِ الْعَمَّةِ وَبِنْتِ الْأَخِ، فَإِنَّ فِي نَفْسِي مِنْهُمَا حَاجَةً "
ترجمہ

راوی بیان کرتے ہیں: میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس اس بیماری میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا جس میں ان کی وفات ہوئی، میں نے انہیں سلام کیا اور پوچھا کہ آپ نے کیسی صبح کی؟ وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، تو میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے، آپ نے تندرستی کی صبح کی۔ تو انہوں نے فرمایا: ”سنو، میں جیسا تم دیکھ رہے ہو تکلیف میں ہوں، اور تم نے میری تکلیف کے ساتھ مجھے ایک اور مشغلے میں ڈال دیا ہے۔ میں نے اپنے بعد کے لیے تمہارے لیے ایک عہد کیا ہے، اور اپنی نظر میں تم میں سے بہترین شخص کا انتخاب کیا ہے، تو تم میں سے ہر ایک کی ناک اس خواہش پر پھول گئی کہ کہیں یہ معاملہ اسی کو نہ مل جائے۔ اور میں نے دیکھ لیا ہے کہ دنیا آ چکی ہے حالانکہ ابھی پوری طرح نہیں آئی اور وہ آنے والی ہے، تم اپنے گھروں کو ریشم کی چادروں اور دیباج کے گدوں سے سجاؤ گے، اور اذری اون کے بستروں پر لیٹنے میں تکلیف محسوس کرو گے، گویا تم میں سے ہر ایک خاردار سعدان کے کانٹوں پر لیٹا ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم میں سے کوئی آگے بڑھے اور اس کی گردن بغیر کسی حد کے مار دی جائے، یہ اس کے لیے دنیا کی موجوں میں غرق رہنے سے بہتر ہے۔“ پھر فرمایا: ”سنو، مجھے کسی چیز پر افسوس نہیں سوائے تین کاموں کے جو میں نے کیے، کاش میں انہیں نہ کرتا، اور تین کام جو میں نے نہیں کیے، کاش میں انہیں کر لیتا، اور تین باتیں جو کاش میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتا۔ جو تین کام میں نے کیے اور کاش نہ کرتا: کاش میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر تلاشی کے لیے نہ کھلواتا اور اسے چھوڑ دیتا، چاہے اس پر لڑائی ہی چھڑ جاتی۔ اور کاش میں سقیفہ بنی ساعدہ کے دن یہ معاملہ ابوعبیدہ یا عمر میں سے کسی ایک کے سپرد کر دیتا، تو وہی امیر المومنین ہوتا اور میں وزیر ہوتا۔ اور کاش جب میں نے خالد بن ولید کو اہل ردت کی طرف بھیجا تھا تو میں خود ذی القصہ میں ٹھہرا رہتا، تاکہ اگر مسلمان فتح پا لیتے تو ٹھیک، ورنہ میں کمک یا مدد کے لیے موجود ہوتا۔ اور جو باتیں کاش میں کرتا: کاش جس دن اشعث قیدی بنا کر لایا گیا تو میں اس کی گردن مار دیتا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ وہ آئندہ بدترین فتنہ کا سبب بنے گا۔ اور کاش جس دن فجاءہ سلمی لایا گیا تو میں اسے نہ جلاتا، بلکہ اسے فوراً قتل کر دیتا یا چھوڑ دیتا۔ اور کاش جب میں نے خالد بن ولید کو شام کی طرف بھیجا تو عمر کو عراق کی طرف بھیجتا، تاکہ میں نے اللہ کی راہ میں اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیے ہوتے۔ اور جو تین باتیں کاش میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتا: کاش میں پوچھ لیتا کہ یہ معاملہ کن لوگوں کا حق ہے تاکہ اس کے اہل سے کوئی نزاع نہ کرے، اور کاش میں پوچھ لیتا کہ کیا انصار کا بھی اس معاملے میں کوئی حصہ ہے، اور کاش میں پھوپھی اور بھتیجی کی میراث کے بارے میں پوچھ لیتا، کیونکہ میرے دل میں ان دونوں کے بارے میں ایک الجھن ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 43
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 62، حدیث 43