المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو محمد الحضرمي، عن أبي أيوب باب: ابومحمد حضرمی کی سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ: رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ؟» فَسَكَتَ الرَّجُلُ وَرَأَى أَنَّهُ قَدْ هُجِمَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ كَرِهَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هُوَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا صَوَابًا» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا قُلْتُهَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَ كَلِمَتَكَ أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا إِلَى اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى»سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص نے کہا: ”الحمد للہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ“ (بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت والی تعریف اللہ ہی کے لیے ہے)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات کس نے کہی؟“ وہ شخص خاموش ہو گیا اور سمجھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی ناپسندیدہ بات معلوم ہوئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کون ہے؟ اس نے تو ٹھیک ہی بات کہی ہے۔“ اس شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے یہ کہا تھا، اس سے بھلائی کی امید رکھتے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ تمہاری اس بات کو (اللہ کی طرف) اٹھانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ان میں سے کون اسے اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف لے جائے۔“