حدیث نمبر: 4061
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي زِيَادَ بْنَ أَنْعُمٍ، يَقُولُ: إِنَّهُ جَمَعَهُمْ مَرْسَى لَهُمْ فِي الْبَحْرِ وَمَرْكَبَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُلَّمَا حَضَرَ غِذَاؤُنَا أَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ وَإِلَى أَهْلِ مَرْكَبِهِ، فَأَتَى أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ: دَعَوْتُمُونِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَكَانَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ أُجِيبَكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سِتُّ خِصَالٍ وَاجِبَةٍ فَمَنْ تَرَكَ خَصْلَةً مِنْهَا فَقَدْ تَرَكَ حَقًّا وَاجِبًا لِأَخِيهِ، إِذَا دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ، وَإِذَا لَقِيَهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ، وَإِذَا عَطَسَ أَنْ يُشَمِّتَهُ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَتْبَعَ جِنَازَتَهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَهُ أَنْ يَنْصَحَهُ» . قَالَ أَبِي: وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَزَّاحٌ وَكَانَ عَلَى نَفَقَاتِنَا رَجُلٌ فَكَانَ الْمَزَّاحُ يَقُولُ لِلَّذِي يَلِي الطَّعَامَ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا وَبِرًّا، فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ جَعَلَ يَغْضَبُ وَيَشْتُمُهُ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ: يَا أَبَا أَيُّوبَ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ إِذَا قُلْتُ لَهُ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا وَبِرًّا غَضِبَ وَشَتَمَنِي، فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: كُنَّا نَقُولُ: مَنْ لَمْ يُصْلِحْهُ الْخَيْرُ أَصْلَحَهُ الشَّرُّ فَأُقْلِبَ لَهُ فَلَمَّا جَاءَ الرَّجُلُ قَالَ لَهُ الْمَزَّاحُ: جَزَاكَ اللهُ شَرًّا وعُسْرًا فَضَحِكَ الرَّجُلُ وَرَضِيَ، وَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدَعُ بِطَالَتَكَ عَلَى كُلِّ حَالٍ، فَقَالَ الْمَزَّاحُ: جَزَى اللهُ أَبَا أَيُّوبَ خَيْرًا وَبِرًّا فَقَدْ قَالَ لِي
ترجمہ

ابوایوب رضی اللہ عنہ آئے اور فرمایا: تم نے مجھے بلایا جبکہ میں روزے سے تھا، لیکن تمہاری دعوت کا حق مجھ پر واجب تھا کہ میں قبول کروں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مسلمان کے اپنے مسلمان بھائی پر چھ حقوق واجب ہیں، جو شخص ان میں سے کسی ایک خصلت کو چھوڑ دے، اس نے اپنے بھائی کا ایک واجب حق چھوڑ دیا: جب وہ اسے بلائے تو اس کی دعوت قبول کرے، جب اس سے ملے تو اسے سلام کرے، جب اسے چھینک آئے تو 'یرحمک اللہ' کہے، جب وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے، اور جب وہ نصیحت طلب کرے تو اسے نصیحت کرے۔“ (راوی کے والد کہتے ہیں:) ہم میں ایک مذاق کرنے والا شخص تھا، اور ہمارے کھانے کے انتظام پر ایک اور شخص مقرر تھا۔ مذاق کرنے والا اس کھانے کے ذمہ دار سے کہا کرتا: اللہ تمہیں اچھی اور نیک جزا دے۔ جب اس نے بار بار یہ بات کہی تو وہ (ذمہ دار) غصے میں آ کر اسے برا بھلا کہنے لگا۔ اس پر مذاق کرنے والے نے (ابوایوب رضی اللہ عنہ سے) کہا: اے ابوایوب! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جب میں اس سے کہتا ہوں 'اللہ تمہیں اچھی اور نیک جزا دے' تو وہ غصے میں آ کر مجھے برا بھلا کہتا ہے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم کہا کرتے تھے کہ جسے بھلائی درست نہ کرے اسے برائی درست کر دیتی ہے، سو اس کے ساتھ الٹا معاملہ کرو۔ چنانچہ جب وہ شخص آیا تو مذاق کرنے والے نے اس سے کہا: اللہ تمہیں بری اور تنگی والی جزا دے۔ اس پر وہ شخص ہنس پڑا اور راضی ہو گیا اور کہا: تم اپنی شرارت کسی حال میں نہیں چھوڑتے۔ اس پر مذاق کرنے والے نے کہا: اللہ ابوایوب کو اچھی اور نیک جزا دے، کیونکہ انہوں نے ہی مجھے یہ بات بتائی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 4061
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 180، حدیث 4076