❮
❯
حدیث نمبر: 3997
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْجَارُودِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ شَاذَانُ، ثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ لِي نَخْلٌ فِي سَهْوَةٍ لِي، فَجَعَلْتُ أَرَاهُ يَنْقُصُ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّكَ سَتَجِدُ فِيهِ غَدًا هِرَّةً فَقُلْ: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ وَجَدْتُ فِيهِ هِرَّةً، فَقُلْتُ: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَحَوَّلَتْ عَجُوزًا وَقَالَتْ: أُذَكِّرُكَ اللهَ لَمَا تَرَكْتَنِي، فَإِنِّي غَيْرُ عَائِدَةٍ، فَتَرَكْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَ الرَّجُلُ وأَسِيرُهُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقَالَ: " كَذَبَتْ هِي عَائِدَةٌ، فَقُلْ لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَتَحَوَّلَتْ عَجُوزًا، فَقَالَتْ: أُذَكِّرُكَ اللهَ يَا أَبَا أَيُّوبَ لَمَا تَرَكْتَنِي هَذِهِ الْمَرَّةَ، فَإِنِّي غَيْرُ عَائِدَةٍ فَتَرَكْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي كَمَا قَالَ لِي، فَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَتْ لِي فِي الثَّالِثَةِ: أُذَكِّرُكَ اللهَ يَا أَبَا أَيُّوبَ لَمَا تَرَكْتَنِي حَتَّى أُعَلِّمَكَ شَيْئًا لَا يَسْمَعُهُ شَيْطَانٌ فَيَدْخُلُ ذَلِكَ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ فَقَالَتْ: آيَةُ الْكُرْسِيِّ، لَا يَسْمَعُهَا شَيْطَانٌ إِلَّا ذَهَبَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَدَقَتْ وَإِنْ كَانَتْ كَذُوبًا»
ترجمہ

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری کوٹھڑی میں کھجوریں تھیں، میں دیکھنے لگا کہ ان میں کمی ہو رہی ہے، میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کل تم اس میں ایک بلی پاؤ گے، تو کہنا: رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دو۔“ جب اگلا دن ہوا تو میں نے اس میں ایک بلی پائی، میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دو، تو وہ ایک بڑھیا کی شکل میں بدل گئی اور کہنے لگی: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو، میں دوبارہ نہیں آؤں گی، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس آدمی اور اس کے قیدی کا کیا بنا؟“ میں نے آپ کو اس کی خبر بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ بولا، وہ ضرور دوبارہ آئے گی، اس سے کہو: رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دو۔“ تو وہ پھر بڑھیا کی شکل میں بدل گئی اور کہنے لگی: اے ابوایوب! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ اس بار مجھے چھوڑ دو، میں دوبارہ نہیں آؤں گی۔ تو میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے وہی فرمایا جو پہلے فرمایا تھا۔ میں نے یہ تین بار کیا، تو تیسری بار اس نے مجھ سے کہا: اے ابوایوب! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں تمہیں ایسی چیز سکھا دوں کہ جسے سن کر کوئی شیطان اس گھر میں داخل نہیں ہوتا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: آیت الکرسی، اسے کوئی شیطان نہیں سنتا مگر بھاگ جاتا ہے۔ میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا اگرچہ وہ جھوٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3997
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 162، حدیث 4012