❮
❯
حدیث نمبر: 3996
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي سَهْوَةٍ لَهُ، فَكَانَتِ الْغُولُ تَجِيءُ فَتَدْخُلُ، فَشَكَاهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ: بِسْمِ اللهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَجَاءَتْ، فَقَالَ لَهَا، فَأَخَذَهَا، فَقَالَتْ: لَا أَعُودُ، فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» فَقَالَ: أَخَذْتُهَا، فَقَالَتْ: لَا أَعُودُ فَأَرْسَلْتُهَا، فَقَالَ: «إِنَّهَا عَائِدَةٌ» فَأَخَذْتُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ تَقُولُ: لَا أَعُودُ، وَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَقُولُ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ» ، فَيَقُولُ: أَخَذْتُهَا فَتَقُولُ: لَا أَعُودُ، فَيَقُولُ: «إِنَّهَا عَائِدَةٌ» فَأَخَذْتُهَا، فَقَالَتْ: أَرْسِلْنِي وَأُعَلِّمُكَ شَيْئًا تَقُولُهُ وَلَا يَقْرَبُكَ شَيْءٌ، آيَةَ الْكُرْسِيِّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «صَدَقَتْ وَهِي كَذُوبٌ»
ترجمہ

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک طاقچہ (سامان رکھنے کی کوٹھڑی) تھا، اس میں ایک غول (جن) آ کر داخل ہو جاتی تھی، تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اسے دیکھو تو کہو: بسم اللہ، رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دو۔“ تو وہ آئی، انہوں نے اس سے یہ بات کہی اور اسے پکڑ لیا، تو اس نے کہا: میں دوبارہ نہیں آؤں گی، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے اسے پکڑا، اس نے کہا: میں دوبارہ نہیں آؤں گی، تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ضرور دوبارہ آئے گی۔“ چنانچہ میں نے اسے دو یا تین بار پکڑا، ہر بار وہ یہی کہتی: میں دوبارہ نہیں آؤں گی، اور نبی کریم ﷺ آ کر پوچھتے: ”تمہارے قیدی کا کیا بنا؟“ وہ عرض کرتے: میں نے اسے پکڑا تو اس نے کہا: میں دوبارہ نہیں آؤں گی۔ آپ ﷺ فرماتے: ”وہ ضرور دوبارہ آئے گی۔“ تو میں نے پھر اسے پکڑا، تو اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں کچھ ایسا سکھاؤں گی کہ تم اسے کہو تو تمہارے قریب کوئی چیز نہ آئے - وہ ہے آیۃ الکرسی۔ تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، حالانکہ وہ بہت جھوٹی ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3996
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 162، حدیث 4011