حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيَّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا قُبِضَتْ تَلَقَّاهَا مِنْ أَهْلِ الرَّحْمَةِ مِنْ عَبَادِ اللهِ كَمَا تَلْقَوْنَ الْبَشِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ، ثُمَّ يَسْأَلُونَهُ مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟، وَمَا فَعَلَتْ فُلَانَةُ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنِ الرَّجُلِ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ، فَيَقُولُ: أَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَاكَ قَبْلِي، فَيَقُولُونَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، ذُهِبَتْ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ " قَالَ: " وَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا، وَقَالُوا: اللهُمَّ هَذَا فَضْلُكَ وَرَحْمَتُكَ فَأَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيْهِ، وَأَمِتْهُ عَلَيْهَا وَيُعْرَضُ عَلَيْهِمْ عَمَلُ الْمُسِيءِ، فَيَقُولُونَ: اللهُمَّ أَلْهِمْهُ عَمَلًا صَالِحًا تَرْضَى بِهِ عَنْهُ وتُقَرِّبُهُ إِلَيْكَ ".
ترجمہ

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی روح جب قبض کی جاتی ہے تو اللہ کے رحمت والے بندے اس کا استقبال اسی طرح کرتے ہیں جیسے تم دنیا میں کسی خوشخبری لانے والے کا استقبال کرتے ہو۔ وہ کہتے ہیں: اپنے ساتھی کو دیکھو، وہ آرام پا رہا ہے، وہ سخت تکلیف میں تھا۔ پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں: فلاں نے کیا کیا؟ فلانی نے کیا کیا؟ کیا اس کی شادی ہو گئی؟ اگر وہ اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو اس سے پہلے مر چکا ہو تو وہ کہتا ہے: افسوس! وہ تو مجھ سے پہلے مر گیا تھا۔ تو وہ کہتے ہیں: انا للہ وانا الیہ راجعون، اسے اس کی ماں ہاویہ (جہنم) کی طرف لے جایا گیا، تو بری ہے وہ ماں اور بری ہے وہ پرورش کرنے والی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور تمہارے اعمال تمہارے رشتہ داروں اور اہل آخرت میں سے تمہارے قبیلے والوں پر پیش کیے جاتے ہیں، اگر وہ اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے اور خوشخبری مناتے ہیں اور کہتے ہیں: اے اللہ! یہ تیرا فضل اور تیری رحمت ہے، سو اپنی نعمت اسے مکمل کر دے اور اسی حالت پر اسے موت دے۔ اور جب برے عمل والے کا عمل ان پر پیش کیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے نیک عمل کی توفیق دے جس سے تو اس سے راضی ہو اور اسے اپنے قریب کر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 129، حدیث 3887