❮
❯
حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا فِرْدَوْسُ بْنُ الْأَشْعَرِيِّ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ حِينَ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ غَزَا أَرْضَ، الرُّومِ فَمَرَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَفَاهُ فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ مِنْ غَزْوَتِهِ فَمَرَّ عَلَيْهِ فَجَفَاهُ وَلَمْ يَرْفَعْ بِهِ رَأْسًا، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْبَأَنِي أَنَّا سَنَرَى بَعْدَهُ أَثَرَةً» ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: فَبِمَ أَمَرَكُمْ؟، قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نَصْبِرَ، قَالَ: فَاصْبِرُوا إِذَنْ فَأَتَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ بِالْبَصْرَةِ وَقَدْ أَمَرَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أَيُّوبَ أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ لَكَ عَنْ مَسْكَنِي كَمَا خَرَجْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ أَهْلَهُ فَخَرَجُوا وَأَعْطَاهُ كُلَّ شَيْءٍ أَغْلَقَ عَلَيْهِ الدَّارَ، فَلَمَّا كَانَ انْطِلَاقُهُ قَالَ: حَاجَتَكَ؟ قَالَ: حَاجَتِي عَطَائِي وَثَمَانِيَةُ أَعْبُدٍ يَعْمَلُونَ فِي أَرْضِي وَكَانَ عَطَاؤُهُ أَرْبَعَةَ آلَافٍ فَأَضْعَفَهَا لَهُ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَأَعْطَاهُ عِشْرِينَ أَلْفًا وَأَرْبَعِينَ عَبْدًا .
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوایوب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ، جن کے ہاں رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آنے پر ٹھہرے تھے، روم کی سرزمین میں جہاد کے لیے گئے تو (جاتے ہوئے) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے ان سے بے رخی برتی، تو وہ چلے گئے، پھر اپنے غزوے سے واپس آ کر ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پھر بے رخی برتی اور ان کی طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا، تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے بتایا تھا کہ ہم آپ ﷺ کے بعد (دوسروں کو) ترجیح دیے جانے کا معاملہ دیکھیں گے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو آپ ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر صبر کرو۔ پھر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں کا امیر مقرر کر رکھا تھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اے ابوایوب! میں چاہتا ہوں کہ میں اپنا گھر آپ کے لیے خالی کر دوں جیسے آپ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے اپنا گھر خالی کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا تو وہ نکل گئے، اور گھر کے اندر جو کچھ تھا سب انہیں دے دیا۔ جب سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ روانہ ہونے لگے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: آپ کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے فرمایا: میری ضرورت میرا وظیفہ اور آٹھ غلام ہیں جو میری زمین میں کام کریں۔ ان کا وظیفہ چار ہزار تھا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے پانچ گنا کر دیا اور انہیں بیس ہزار اور چالیس غلام عطا کیے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3861
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 125، حدیث 3876