المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مالك بن الحارث بن الأشتر، عن خالد بن الوليد باب: مالک بن حارث بن اشتر کی سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا يَحْيَى، يَقُولُ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ يَأْثُرُهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْأَشْتَرِ، قَالَ: ابْتَدَأَنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ غَيْرِ أَنْ نَسْأَلَهُ فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَخْوَفَ عِنْدِي عَلَى أَنْ يُدْخِلَنِي النَّارَ مِنْ شَأْنِ عَمَّارٍ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ وَمَا هُوَ؟ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَأَصَبْتُهُمْ وَفِيهِمْ أَهْلُ بَيْتٍ مُسْلِمَيْنَ، فَكَلَّمَنِي عَمَّارٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَرْسِلْهُمْ، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى آتِي بِهِمْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ شَاءَ أَرْسَلَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهِمْ مَا أَرَادَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ، فَدَخَلَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى خَالِدٍ فَعَلَ وَفَعَلَ، فَقَالَ خَالِدٌ: أَمْ وَاللهِ فَلَوْلَا مَجْلِسُكَ مَا سَبَّنِي ابْنُ سُمَيَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْرُجْ يَا عَمَّارُ» فَخَرَجَ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا نَصَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَالِدٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَجَبْتَ الرَّجُلَ؟» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مَنَعَنِي مِنْهُ إِلَّا مَحْقَرَتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَحْقِرُ عَمَّارًا يَحْقِرُهُ اللهُ، وَمَنْ يَسُبُّ عَمَّارًا يَسُبَّهُ اللهُ، وَمَنْ يَنْتَقِصُ عَمَّارًا يَنْتَقِصُهُ اللهُ» ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ حَتَّى اسْتَغْفَرَ لِي .سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خالد اندر آئے اور کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ خالد نے یوں یوں کیا؟ تو خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تمہاری مجلس نہ ہوتی تو ابن سمیہ مجھے برا بھلا نہ کہتا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمار! باہر نکل جاؤ۔“ تو میں روتا ہوا باہر نکلا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے خالد کے خلاف میری مدد نہیں کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم نے اس آدمی کو جواب کیوں نہ دیا؟“ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس کا جواب دینے سے صرف اسے حقیر جاننے کی بات نے روکا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو عمار کو حقیر سمجھے اللہ اسے حقیر کر دے گا، اور جو عمار کو برا کہے اللہ اسے برا کہے گا، اور جو عمار میں نقص نکالے اللہ اس میں نقص نکالے گا۔“ تو میں نکلا اور اس کے پیچھے گیا اور اس سے بات کی یہاں تک کہ اس نے میرے لیے استغفار کیا۔