❮
❯
حدیث نمبر: 3815
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ الْجُعْفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْأَشْتَرِ، قَالَ: كَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ يَضْرِبُ النَّاسَ عَلَى الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَصَبْنَا أَهْلَ بَيْتٍ كَانُوا وَحَّدُوا، فَقَالَ عَمَّارٌ: قَدِ احْتَجَزَ هَؤُلَاءِ مِنَّا بِتَوْحِيدِهِمْ، فَلَمْ أَلْتَفِتْ إِلَى قَوْلِ عَمَّارٍ، فَقَالَ: أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَانِي إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْتَصُّ مِنِّي، أَدْبَرَ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا خَالِدُ لَا تَسُبَّ عَمَّارًا، فَإِنَّهُ مَنْ سَبَّ عَمَّارًا سَبَّهُ اللهُ، وَمَنْ يُبْغِضُ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ، وَمَنْ سَفَّهَ عَمَّارًا سَفَّهَهُ اللهُ» ، فَقَالَ خَالِدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ فَوَاللهِ مَا مَنَعَنِي أَنْ أُحِبَّهُ إِلَّا تَسْفِيهي إِيَّاهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَمَا مِنْ ذُنُوبِي شَيْءٌ أَخْوَفَ عِنْدِي مِنْ تَسْفِيهي عَمَّارًا
ترجمہ

اشتر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر لوگوں کو مارتے تھے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک سریہ میں بھیجا، تو ہم نے ایک گھرانے کو جا لیا جو توحید کا اقرار کر چکے تھے۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ان لوگوں نے اپنی توحید کے ذریعے ہم سے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا ہے، مگر میں نے عمار کی بات کی طرف توجہ نہ دی، تو انہوں نے کہا: سن لو! میں ضرور رسول اللہ ﷺ کو بتاؤں گا۔ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ سے میری شکایت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ مجھ سے بدلہ نہیں لے رہے، تو وہ آنسو بہاتے ہوئے پیٹھ پھیر کر چلے گئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں واپس بلایا اور فرمایا: ”اے خالد! عمار کو برا مت کہو، جو شخص عمار کو برا کہے اللہ اسے برا کہے گا، اور جو عمار سے بغض رکھے اللہ اس سے بغض رکھے گا، اور جو عمار کو کم عقل کہے اللہ اسے کم عقل قرار دے گا۔“ تو خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے استغفار کر دیجیے، اللہ کی قسم! مجھے ان سے محبت کرنے سے صرف انہیں کم عقل سمجھنے کی بات نے روکا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے گناہوں میں سے کوئی گناہ مجھے عمار کو کم عقل کہنے سے زیادہ خوفناک محسوس نہیں ہوتا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3815
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 112، حدیث 3830