المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن الوليد المخزومي " يكنى أبا سليمان وهو خالد بن الوليد بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم بن يقظة بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك وأمه لبابة بنت الحارث بن حزن بن بجير بن رويبة بن عبد الله بن هلال بن عامر بن صعصعة وسماه رسول الله صلى باب: سیدنا خالد بن ولید مخزومی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوسلیمان، اور وہ خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ہیں، ان کی والدہ لبابہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ تھیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام رکھا
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، عَنْ جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مَنْهَبٍ، قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ أَوْسٍ: «لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ، أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ، فَلَقِيَنَا هُرْمُزُ بِكَاظِمَةٍ فِي جَمُعٍ عَظِيمٍ، فَبَرَزَ لَهُ خَالِدٌ وَدَعَا إِلَى الْبَرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، قَلَنْسُوَةَ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرُفَ فِيهَا رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَةً بِمِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ»سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہرمز سے بڑھ کر عربوں کا دشمن کوئی نہ تھا۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو بصرہ کی طرف روانہ ہوئے، تو کاظمہ میں ہرمز ایک بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ہمیں ملا۔ خالد رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور مبارزت کی دعوت دی، تو ہرمز بھی مقابلے میں نکلا، خالد نے اسے قتل کر دیا۔ انہوں نے یہ خبر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، تو انہوں نے اسے اس کا سامان بطور انعام دے دیا، ہرمز کی ٹوپی جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، اور فارس والوں کا دستور تھا کہ جب ان میں کوئی شخص بلند مرتبہ ہوتا تو وہ ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بنواتے۔