حدیث نمبر: 3788
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا عَمُّ أَبِي زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ، عَنْ جَدِّهِ حُمَيْدِ بْنِ مَنْهَبٍ، قَالَ: قَالَ خُرَيْمُ بْنُ أَوْسٍ: «لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَعْدَى لِلْعَرَبِ مِنْ هُرْمُزَ، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ مُسَيْلِمَةَ وَأَصْحَابِهِ، أَقْبَلْنَا إِلَى نَاحِيَةِ الْبَصْرَةِ، فَلَقِيَنَا هُرْمُزُ بِكَاظِمَةٍ فِي جَمُعٍ عَظِيمٍ، فَبَرَزَ لَهُ خَالِدٌ وَدَعَا إِلَى الْبَرَازِ، فَبَرَزَ لَهُ هُرْمُزُ، فَقَتَلَهُ خَالِدٌ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ، قَلَنْسُوَةَ هُرْمُزَ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، وَكَانَتِ الْفُرْسُ إِذَا شَرُفَ فِيهَا رَجُلٌ جَعَلُوا قَلَنْسُوَةً بِمِئَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ»
ترجمہ

سیدنا خریم بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہرمز سے بڑھ کر عربوں کا دشمن کوئی نہ تھا۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں سے فارغ ہوئے تو بصرہ کی طرف روانہ ہوئے، تو کاظمہ میں ہرمز ایک بہت بڑی جمعیت کے ساتھ ہمیں ملا۔ خالد رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں نکلے اور مبارزت کی دعوت دی، تو ہرمز بھی مقابلے میں نکلا، خالد نے اسے قتل کر دیا۔ انہوں نے یہ خبر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی، تو انہوں نے اسے اس کا سامان بطور انعام دے دیا، ہرمز کی ٹوپی جس کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی، اور فارس والوں کا دستور تھا کہ جب ان میں کوئی شخص بلند مرتبہ ہوتا تو وہ ایک لاکھ درہم کی ٹوپی بنواتے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الخاء / حدیث: 3788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 104، حدیث 3803