المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن الوليد المخزومي " يكنى أبا سليمان وهو خالد بن الوليد بن المغيرة بن عبد الله بن عمر بن مخزوم بن يقظة بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك وأمه لبابة بنت الحارث بن حزن بن بجير بن رويبة بن عبد الله بن هلال بن عامر بن صعصعة وسماه رسول الله صلى باب: سیدنا خالد بن ولید مخزومی رضی اللہ عنہ، کنیت ابوسلیمان، اور وہ خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بن یقظہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ہیں، ان کی والدہ لبابہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ تھیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام رکھا
حدیث نمبر: 3787
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِالْحِيرَةِ: «إِنَّهُ انْدَقَّ بِيَدِهِ يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ» قَالَ: «فَصَبَرَتْ بِيَدَيَّ صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ»ترجمہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حیرہ میں فرمایا: ”جنگ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔“ فرمایا: ”پھر میری یمنی تلوار نے میرے ہاتھ میں ثابت قدمی دکھائی۔“