المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
باب ما جاء في فساد الناس عند إظهار الخمور، واستحلال الحرير والفروج باب: شراب کے عام ہونے اور ریشم و بدکاری کو حلال سمجھنے کے وقت لوگوں کی خرابی کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا فِرْدَوْسٌ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا مَسْعُودُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ ادْفَعْنِي إِلَى رَجُلٍ حَسَنِ التَّعْلِيمِ، فَدَفَعَنِي إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ دَفَعْتُكَ إِلَى رَجُلٍ يُحْسِنُ تَعْلِيمَكَ وَأَدَبَكَ، فَأَتَيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَهُوَ وَبَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو النُّعْمَانِ بْنُ بَشِيرٍ يَتَحَدَّثَانِ، فَلَمَّا رَأَيَانِي سَكَتَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، وَاللهِ مَا هَكَذَا حَدَّثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكَ جِئْتَ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ حَدِيثًا سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْلِسِ حَتَّى نُحَدِّثَكَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيكُمُ النُّبُوَّةَ، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةْ، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَجَبَرِيَّةً»
مَنِ اسْمُهُ أُسَامَةُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ حِبُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ وَيُقَالُ أَبُو زَيْدٍابوثعلبہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ سے ملا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کسی ایسے شخص کے سپرد کر دیجیے جو اچھی تعلیم دینے والا ہو۔ تو آپ ﷺ نے مجھے ابوعبیدہ بن الجراح کے سپرد کر دیا، پھر فرمایا: ”میں نے تمہیں ایسے شخص کے سپرد کیا ہے جو تمہیں اچھی تعلیم و تربیت دے گا۔“ چنانچہ میں ابوعبیدہ بن الجراح کے پاس آیا، وہ اور بشیر بن سعد، جو نعمان بن بشیر کے والد ہیں، باتیں کر رہے تھے، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ تو میں نے کہا: اے ابوعبیدہ! اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے (تمہارے بارے میں) ایسی بات نہیں کہی تھی۔ انہوں نے کہا: تم اس وقت آئے ہو جب ہم ایک ایسی حدیث بیان کر رہے تھے جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، بیٹھو تاکہ ہم تمہیں بھی سنائیں۔ پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں نبوت ہے، پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی، پھر یہ بادشاہت اور جبر بن جائے گی۔“
جن کا نام اسامہ ہے: اسامہ بن زید بن حارثہ، رسول اللہ ﷺ کے چہیتے، کنیت ابومحمد، اور یہ بھی کہا جاتا ہے ابوزید۔