المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله خباب، عن أبيه باب: عبداللہ بن خباب کی اپنے والد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَأَطَالَهَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا قَالَ: «أَجَلْ إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسُنَّةٍ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَلَّا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا»سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھی اور اسے طویل کیا، تو صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسی نماز پڑھی جیسی پہلے نہیں پڑھتے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ امید اور خوف کی نماز تھی، اور میں نے اس میں اپنے رب سے تین باتیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے منع کیا: میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دیا۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان پر ان کے علاوہ کسی دشمن کو مسلط نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دیا۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ان میں سے بعض کو بعض کی سختی نہ چکھائے، تو اس نے مجھے اس سے منع کر دیا۔“