المعجم الكبير للطبراني
باب الخاء— حرف خا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله خباب، عن أبيه باب: عبداللہ بن خباب کی اپنے والد سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، وَمُوسَى بْنُ عِيسَى، قَالَا: ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِيه خَبَّابٍ، أَنَّهُ: رَاقَبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَصَلَّى حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ الْفَجْرِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْتُكَ اللَّيْلَةَ صَلَّيْتَ صَلَاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ مِثْلَهَا؟ قَالَ: «أَجَلْ، إِنَّهَا صَلَاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةٍ، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الْأُمَمَ فَأَعْطَانِي ذَلِكَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْنَا عَدُوًّا فَيُهْلِكُونا فَأَعْطَانِي ذَلِكَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَ أُمَّتِي شِيَعًا فَمَنَعَنِي»راوی بیان کرتے ہیں: …انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کا مشاہدہ کیا، آپ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ فجر کے قریب ہو گئی، تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو آج رات ایسی نماز پڑھتے دیکھا جیسی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ امید اور خوف کی نماز تھی، میں نے اپنے رب عزوجل سے تین باتیں مانگیں، اس نے مجھے دو عطا کیں اور ایک سے منع کیا: میں نے اس سے مانگا کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاک نہ کرے جیسے پہلی امتوں کو ہلاک کیا، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دیا۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ ہم پر کوئی دشمن مسلط نہ کرے، تو اس نے مجھے یہ عطا کر دیا۔ اور میں نے اس سے مانگا کہ وہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرے، تو اس نے مجھے اس سے منع کر دیا۔“