المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حبيب بن سباع أبو جمعة الأنصاري ويقال: جنيد بن سبع باب: سیدنا حبیب بن سباع، ابوجمعہ انصاری رضی اللہ عنہ، اور جنید بن سبع بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ جُبَيْرٍ أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جُمُعَةَ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ لِيُصَلِّيَ فِيهِ وَمَعَنَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ يَوْمَئِذٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ خَرَجْنَا مَعَهُ لِنُشَيِّعَهُ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ: إِنَّ لَكُمْ عَلَيَّ جَائِزَةً وحَقًّا أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: هَاتِ يَرْحَمُكَ اللهُ، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ مِنْ قَوْمٍ أَعْظَمُ مِنَّا أَجْرًا آمَنَّا بِكَ وَاتَّبَعْنَاكَ؟ قَالَ: «مَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ يَأْتِيكُمُ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ، بَلَى قَوْمٌ يَأْتِيهِمْ كِتَابٌ بَيْنَ لَوْحَيْنِ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا، أُولَئِكَ أَعْظَمُ مِنْكُمْ أَجْرًا»جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابوجمعہ انصاری رضی اللہ عنہ بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے ہمارے پاس آئے، اس دن ہمارے ساتھ رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ بھی تھے۔ جب وہ واپس ہوئے تو ہم انہیں رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ نکلے، جب ہم نے لوٹنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: تمہارا مجھ پر ایک تحفہ اور حق ہے کہ میں تمہیں ایک حدیث سناؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ ہم نے کہا: سنائیے، اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہمارے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی دس میں سے دسویں تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کوئی قوم ہم سے بڑھ کر اجر والی ہے؟ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی پیروی کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا چیز روک سکتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے درمیان موجود ہیں اور آسمان سے وحی تمہارے پاس آتی ہے؟ ہاں، وہ لوگ جن کے پاس دو تختیوں کے درمیان ایک کتاب آئے گی تو وہ اس پر ایمان لائیں گے اور جو اس میں ہے اس پر عمل کریں گے، وہی اجر میں تم سے بڑھ کر ہیں، وہی اجر میں تم سے بڑھ کر ہیں، وہی اجر میں تم سے بڑھ کر ہیں۔“