المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حنظلة بن الربيع الأسيدي الكاتب باب: سیدنا حنظلہ بن ربیع اسیدی رضی اللہ عنہ، کاتب
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حَنَشٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَكُنَّا رَأْىَ عَيْنٍ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَضَحِكْتُ مَعَهُمْ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ رَحِمَهُ اللهُ فَقُلْتُ: إِنِّي نَافَقْتُ، قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟، فَقُلْتُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَكُنَّا كَأَنَّا رَأْى عَيْنٍ فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَضَحِكْتُ مَعَهُمْ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ قَالَ: «يَا حَنْظَلَةُ لَوْ كُنْتُمْ عِنْدَ أَهْلِيكُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي الطَّرِيقِ، يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةٌ وَسَاعَةٌ»سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ نے جنت اور جہنم کا ذکر کیا، اور ہم گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، پھر میں نکل کر اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے لگا، تو میرے دل میں کچھ خلجان پیدا ہوا، تو میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا: میں منافق ہو گیا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ ﷺ نے جنت اور جہنم کا ذکر کیا، اور ہم گویا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو ان کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے لگا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات ان سے عرض کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حنظلہ! اگر تم اپنے گھر والوں کے پاس بھی اسی حال میں رہتے جیسے میرے پاس رہتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور راستے میں تم سے مصافحہ کریں۔ اے حنظلہ! وقتاً فوقتاً۔“