حدیث نمبر: 3464
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا ذَيَّالُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي، يَقُولُ: قَالَ أَبُوهُ حِذْيَمٌ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ذُو بَنِينَ وَهَذَا أَصْغَرُ بَنِيَّ فَشَمِّتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «تَعَالَ يَا غُلَامُ» ، فَأَخَذَ بِيَدَيَّ وَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِ» ، قَالَ: فَرَأَيْتُ حَنْظَلَةَ يُؤْتَى بِالْإِنْسَانِ الْوَرِمِ فَيَمْسَحُ يَدَهُ عَلَيْهِ وَيَقُولُ: بِسْمِ اللهِ، فَيَذْهَبُ الْوَرَمُ
ترجمہ

ذیال بن عبید بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے دادا سے سنا، وہ کہتے ہیں: ان کے والد حِذیَم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے کئی بیٹے ہیں اور یہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے، اس کے لیے دعائے برکت فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ اے بچے!“ پھر آپ ﷺ نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اللہ تمہیں اس میں برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حنظلہ کے پاس سوجن والے شخص کو لایا جاتا تو وہ اس پر اپنا ہاتھ پھیرتے اور ”بسم اللہ“ کہتے تو سوجن ختم ہو جاتی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3464
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 4، صفحہ 6، حدیث 3477