المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حرملة بن زيد الأنصاري باب: سیدنا حرملہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي ذُبْحَةَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ حَرْمَلَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الْإِيمَانُ هَهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى لِسَانِهِ وَالنِّفَاقُ هَهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ وَلَا يَذْكُرُ اللهَ إِلَّا قَلِيلًا، فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَسَكَتَ حَرْمَلَةُ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَرَفِ لِسَانِ حَرْمَلَةَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ لَهُ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَارْزُقْهُ حُبِّي وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّنِي وَصَيِّرْ أَمْرَهُ إِلَى الْخَيْرِ» ، فَقَالَ حَرْمَلَةُ: " يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي إِخْوَانًا مُنَافِقِينَ كُنْتُ فِيهِمْ رَأْسًا أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا، مَنْ جَاءَنَا كَمَا جِئْتَنَا اسْتَغْفَرْنَا لَهُ كَمَا اسْتَغْفَرْنَا لَكَ، وَمَنْ أَصَرَّ عَلَى ذَنْبِهِ فَاللهُ أَوْلَى بِهِ وَلَا تَخْرِقْ عَلَى أَحَدٍ سَتْرًا»سیدنا حرملہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: …نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی، پھر اسے بار بار دہرایا اور حرملہ خاموش رہے، تو نبی کریم ﷺ نے حرملہ کی زبان کا کنارہ پکڑا اور فرمایا: ”اے اللہ! اسے سچی زبان اور شکر گزار دل عطا فرما، اور اسے میری محبت اور مجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت عطا فرما، اور اس کے معاملے کو بھلائی کی طرف موڑ دے۔“ تو حرملہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے کچھ منافق بھائی ہیں، میں ان میں سردار تھا، کیا میں آپ کو ان کی نشاندہی نہ کر دوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جو ہمارے پاس اس طرح آئے جیسے تم آئے ہو، ہم اس کے لیے بھی اسی طرح مغفرت طلب کریں گے جیسے تمہارے لیے کی، اور جو اپنے گناہ پر اڑا رہے تو اللہ اس کے معاملے کا زیادہ حقدار ہے، اور کسی کا پردہ فاش نہ کرو۔“