المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خالد بن سعيد بن أبي مريم عن أبي مالك باب: خالد بن سعید بن ابی مریم کی سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ الْأَضْحَى: «أَلَيْسَ هَذَا الْيَوْمَ الْحَرَامَ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: «فَإِنَّ حُرْمَةَ بَيْنِكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ» . ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُسْلِمُ؟ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَأُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُؤْمِنُ؟ مَنْ أَمِنَهُ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَدِمَائِهِمْ، وأُنَبِّئُكُمْ مَنِ الْمُهَاجِرُ؟ مَنْ هَجَرَ السَّيِّئَاتِ وَهَجَرَ مَا حَرَّمَ اللهُ، الْمُؤْمِنُ حَرَامٌ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَحُرْمَةِ هَذَا الْيَوْمِ، لَحْمُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَأْكُلَهُ وَيَغْتَابَهُ بِالْغَيْبِ، وَعِرْضُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَخْرِقَهُ، وَوَجْهُهُ عَلَيْهِ حَرَامٌ أَنْ يَلْطِمَهُ، وَحَرَامٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْفَعَهُ دَفْعَةً تُعَنِّتُهُ»سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر قربانی کے درمیانی دنوں میں فرمایا: ”کیا یہ حرمت والا دن نہیں ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تمہارا آپس میں احترام قیامت تک اسی طرح ہے جیسے اس دن کی حرمت ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ مسلمان کون ہے؟ وہ جس کی زبان سے مسلمان محفوظ رہیں، اور تمہیں بتاؤں کہ مومن کون ہے؟ وہ جس پر مومن اپنی جانوں اور اپنے خونوں کے بارے میں اعتماد کریں، اور تمہیں بتاؤں کہ مہاجر کون ہے؟ وہ جس نے گناہوں کو اور جو کچھ اللہ نے حرام کیا ہے اسے چھوڑ دیا۔ مومن، مومن پر اسی دن کی طرح حرام ہے: اس کا گوشت اس پر حرام ہے کہ اسے کھایا جائے اور پوشیدہ طور پر اس کی غیبت کی جائے، اس کی عزت اس پر حرام ہے کہ اسے پھاڑا جائے، اس کا چہرہ اس پر حرام ہے کہ اسے طمانچہ مارا جائے، اور اس پر حرام ہے کہ اسے اس طرح دھکیلا جائے کہ اسے تکلیف پہنچے۔“