حدیث نمبر: 3434
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ مَرْثَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ خِلَالٍ غَيَّبْتُهُنَّ عَنْ عِبَادِي، لَوْ رَآهُنَّ مَا عَمِلَ سُوءًا أَبَدًا: لَوْ كَشَفْتُ غِطَائي فَرَآنِي حَتَّى يَسْتَيْقِنَ وَيَعْلَمَ كَيْفَ أَفْعَلُ بِخَلْقِي إِذَا أَمَتُّهُمْ وَقَبَضْتُ السَّمَاوَاتِ بِيَدِي، ثُمَّ قَبَضْتُ الْأَرْضَ وَالْأَرَضِينَ، ثُمَّ قُلْتُ: أَنَا الْمَلِكُ، مَنْ ذَا الَّذِي لَهُ الْمُلْكُ دُونِي؟ ثُمَّ أُرِيهِمُ الْجَنَّةَ وَمَا أَعْدَدْتُ لَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ فَيَسْتَيْقِنُونَهَا، وأُرِيهِمُ النَّارَ وَمَا أَعْدَدْتُ لَهُمْ مِنْ كُلِّ شَرٍّ فَيَسْتَيْقِنُونَهَا، وَلَكِنْ عَمْدًا غَيَّبْتُ ذَلِكَ عَنْهُمْ؛ لِأَعْلَمَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ وَقَدْ بَيَّنْتُهُ لَهُمْ "
ترجمہ

سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تین باتیں میں نے اپنے بندوں سے چھپا رکھی ہیں، اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کبھی کوئی برائی نہ کرتے: اگر میں اپنا پردہ اٹھا دوں تو وہ مجھے اس طرح دیکھے کہ اسے یقین آ جائے اور وہ جان لے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کرتا ہوں جب میں انہیں موت دیتا ہوں اور اپنے ہاتھ سے آسمانوں کو تھام لیتا ہوں، پھر زمین اور زمینوں کو تھام لیتا ہوں، پھر کہتا ہوں: میں بادشاہ ہوں، میرے سوا کس کی بادشاہی ہے؟ پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور جو کچھ میں نے ان کے لیے اس میں ہر بھلائی تیار کر رکھی ہے وہ دکھاؤں تو وہ اس پر یقین کر لیں، اور انہیں جہنم دکھاؤں اور جو کچھ میں نے ان کے لیے اس میں ہر برائی تیار کر رکھی ہے وہ دکھاؤں تو وہ اس پر یقین کر لیں، لیکن میں نے جان بوجھ کر یہ ان سے چھپا رکھا ہے تاکہ میں جان لوں کہ وہ کیسے عمل کرتے ہیں، حالانکہ میں نے یہ ان کے لیے واضح کر دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3434
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 294، حدیث 3447