❮
❯
حدیث نمبر: 3406
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْحَكَمِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيَّ قَدِمَ دِمَشْقَ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَّا، فَذَكَرْنَا الطِّلَاءَ، فَمِنَّا الْمُرَخِّصُ فِيهِ وَمِنَّا الْكَارِهُ لَهُ، فَأَتَيْتُهُ بَعْدَمَا خُضْنَا فِيهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَيَشْرَبَنَّ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، وَيُضْرَبُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْقَيْنَاتِ، يَخْسِفُ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ»
ترجمہ

مالک بن ابی مریم حکمی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن غنم اشعری دمشق تشریف لائے، تو ہم میں سے ایک جماعت ان کے پاس جمع ہوئی، اور ہم نے طلاء (کھجور یا انگور کے رس سے بنائی گئی ایک شے) کا ذکر کیا، تو ہم میں سے کچھ لوگ اسے جائز قرار دیتے تھے اور کچھ اسے ناپسند کرتے تھے، تو میں اس بارے میں گفتگو کرنے کے بعد ان کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں کچھ لوگ ضرور شراب پئیں گے، اسے اس کے نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکاریں گے، اور ان کے سروں پر باجے اور گانے والیاں بجائی جائیں گی، اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے کچھ کو بندر اور خنزیر بنا دے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3406
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 283، حدیث 3419