حدیث نمبر: 3343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ابْنِ الْغَسِيلِ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ أَبِي أُسَيْدٍ - وَكَانَ أَبُوهُ بَدْرِيًّا - أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ زِيَادٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَظَنَنَّا أَنَّهُمْ يُدْعَوْنَ إِلَى الْبَيْعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ هَذَا. قَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: هَذَا ابْنُ عَمِّي حَوْطُ بْنُ يَزِيدَ أَوْ يَزِيدُ بْنُ حَوْطٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أُبَايِعُكُمْ، إِنَّ النَّاسَ يُهَاجِرُونَ إِلَيْكُمْ وَلَا تُهَاجِرُونَ إِلَيْهِمْ» . ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ حَتَّى يَلْقَى اللهَ إِلَّا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ يُحِبُّهُ، وَلَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ حَتَّى يَلْقَى اللهَ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ يُبْغِضُهُ»
ترجمہ

سیدنا حارث بن زیاد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کے دن نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، جبکہ آپ ﷺ لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے، تو ہمارا خیال ہوا کہ انہیں بھی بیعت کے لیے بلایا جائے، تو حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس سے بھی بیعت لے لیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: یہ میرا چچا زاد بھائی حوط بن یزید — یا یزید بن حوط — ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تم سے اس طرح بیعت نہیں لوں گا، کیونکہ لوگ دوسری جگہوں سے تمہاری طرف ہجرت کر کے آتے ہیں، تم ان کی طرف ہجرت نہیں کرتے۔“ پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی شخص انصار سے محبت نہیں کرتا یہاں تک کہ اللہ سے ملے، مگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے محبت کرے گا، اور کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھتا یہاں تک کہ اللہ سے ملے، مگر وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے بغض رکھے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3343
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 263، حدیث 3356