حدیث نمبر: 3294
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْعُتْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى بِسَاطٍ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ» . قَالُوا: وَكَيْفَ نَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَرَدَّ يَدَهُ إِلَى الْبِسَاطِ فَأَمْسَكَ بِهِ فَقَالَ: «تَفْعَلُونَ هَكَذَا»
وَذَكَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا «أَنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ» فَلَمْ يَسْمَعْهُ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالُوا: مَا قَالَ؟ قَالَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ» . فَقَالُوا: فَكَيْفَ لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ وَكَيْفَ نَصْنَعُ؟ قَالَ: «تَرْجِعُونَ إِلَى أَمْرِكُمُ الْأَوَّلِ»
ترجمہ

سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے، جبکہ ہم ایک چٹائی پر بیٹھے تھے، فرمایا: ”عنقریب ایک فتنہ برپا ہو گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کیا کریں؟ تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ چٹائی کی طرف پھیرا اور اسے پکڑ لیا اور فرمایا: ”تم ایسے کرنا۔“
اور ایک دن رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ ”عنقریب ایک فتنہ برپا ہو گا“، مگر بہت سے لوگوں نے یہ بات نہ سنی، تو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سنتے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا: آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: ”عنقریب ایک فتنہ برپا ہو گا۔“ لوگوں نے عرض کیا: تو یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ اور ہم کیا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جانا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3294
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 249، حدیث 3307