❮
❯
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، كَاتِبُ سَلَمَةَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ ثَلَاثُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، نَادَمْتُ رَجُلًا فَعَارَضْتُهُ وَعَارَضَنِي، فَعَرْبَدْتُ عَلَيْهِ فَشَجَجْتُهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ} [المائدة: ٩٠] إِلَى قَوْلِهِ: {فَهَلِ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} [المائدة: ٩١] ، وَنَزَلَتْ فِيَّ: {وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا} [الأحقاف: ١٥] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً} [المجادلة: ١٢] فَقَدَّمْتُ شَعِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ لَزَهِيدٌ» فَنَزَلَتِ الْأُخْرَى: {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} [المجادلة: ١٣] الْآيَةَ كُلَّهَا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ " الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَتْنَا عَبِيدَةُ بِنْتُ نَابِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمُصَلَّاي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا عَبِيدَةُ بِنْتُ نَابِلٍ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَشْرَبُ قَائِمًا»
ترجمہ

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بارے میں کتاب اللہ کی تین آیات نازل ہوئیں: شراب کی حرمت نازل ہوئی — (وجہ یہ ہوئی کہ) میں نے ایک شخص کے ساتھ شراب پی، پھر میں اس سے الجھ پڑا اور وہ مجھ سے الجھ پڑا، تو میں نے نشے میں اس سے جھگڑا کیا اور اس کا سر زخمی کر دیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {اے ایمان والو! شراب اور جوا} [المائدہ: 90] سے لے کر {تو کیا تم باز آنے والے ہو؟} [المائدہ: 91] تک۔ اور میرے ہی بارے میں یہ پوری آیت نازل ہوئی: {اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا، اس کی ماں نے اسے تکلیف کے ساتھ اٹھائے رکھا} [الاحقاف: 15]۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو“ [المجادلہ: 12]، تو میں نے ایک جو کا دانہ صدقہ کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو بہت تھوڑا دینے والے ہو۔“ تو دوسری آیت پوری نازل ہوئی: ”کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات دو“ [المجادلہ: 13]۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے گھر اور میری جائے نماز کے درمیان جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔“
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر پیا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 329
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 147، حدیث 331