❮
❯
حدیث نمبر: 3221
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ حَارِثَةَ ابْنَ الرُّبَيِّعِ جَاءَ نَظَّارًا يَوْمَ أُحُدٍ، وَكَانَ غُلَامًا، فَأَصَابَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ فَوَقَعَ فِي ثُغْرَةِ نَحْرِهِ فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ الرُّبَيِّعُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ عَلِمْتَ مَكَانَ حَارِثَةَ مِنِّي، فَإِنْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَسَأَصْبِرُ، وَإِلَّا فَسَتَرَى مَا أَصْنَعُ. قَالَ: «يَا أُمَّ حَارِثَةَ، إِنَّهَا لَيْسَتْ بِجَنَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَلَكِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ، وَهُوَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى» . قَالتْ: فَسَأَصْبِرُ
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حارثہ بن ربیع رضی اللہ عنہ احد کے دن (لڑائی) دیکھنے کے لیے آئے، وہ نوعمر لڑکے تھے، انہیں ایک نامعلوم سمت سے آنے والا تیر لگا جو ان کے حلق کے گڑھے میں لگا اور انہیں شہید کر دیا۔ تو ان کی والدہ سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ حارثہ میرے نزدیک کیا مقام رکھتا تھا، اگر وہ جنتی ہے تو میں صبر کروں گی، ورنہ آپ دیکھیں گے کہ میں کیا کرتی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام حارثہ! جنت ایک ہی نہیں بلکہ کئی جنتیں ہیں، اور وہ فردوس اعلیٰ میں ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: تو پھر میں صبر کروں گی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3221
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 231، حدیث 3234