حدیث نمبر: 3112
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ رَجُلٍ مِنَ النَّاسِ إِلَيَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نُبِّئَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمٌ الْمَوْسِمَ وَهُوَ كَافِرٌ، فَوَجَدَ حُلَّةٌ لِذِي يَزَنَ تُبَاعُ، فَاشْتَرَاهَا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً فَأَبَى، فَقَالَ: «إِنَّا لَا نَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ شَيْئًا، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْتُهَا مِنْكَ بِالثَّمَنِ» . فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ فَلَبِسَهَا، فَرَأَيْتُهَا عَلَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ أَرَ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ أَعْطَاهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَرَآهَا حَكِيمٌ عَلَى أُسَامَةَ، فَقَالَ: «يَا أُسَامَةُ، أَنْتَ تَلْبَسُ حُلَّةَ ذِي يَزَنَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، وَاللهِ لَأَنَا خَيْرٌ مِنْ ذِي يَزَنَ، وَلَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ. قَالَ حَكِيمٌ: «فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أُعَجِّبُهُمْ بِقَوْلِ أُسَامَةَ»
ترجمہ

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ذو یزن کا ایک جوڑا (لباس) فروخت کے لیے ملا تو انہوں نے اسے خرید لیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کریں، چنانچہ وہ اسے لے کر مدینہ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور چاہا کہ آپ ﷺ اسے بطور ہدیہ قبول فرما لیں، مگر آپ ﷺ نے انکار کر دیا اور فرمایا: ”ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے، البتہ اگر تم چاہو تو میں اسے تم سے قیمت دے کر خرید لوں۔“ چنانچہ جب آپ ﷺ نے ہدیہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تو میں نے وہ آپ کو دے دیا، آپ ﷺ نے اسے پہنا، میں نے اسے آپ ﷺ پر منبر پر دیکھا تو اس دن اس سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میری نظر سے نہیں گزری، پھر آپ ﷺ نے وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو عطا فرما دیا۔ حکیم رضی اللہ عنہ نے وہ جوڑا اسامہ کے جسم پر دیکھا تو کہا: ”اے اسامہ! تم ذو یزن کا جوڑا پہنتے ہو؟“ اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! میں ذو یزن سے بہتر ہوں اور میرے والد ان کے والد سے بہتر ہیں۔ حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”پھر میں اہلِ مکہ کے پاس گیا اور اسامہ کی اس بات پر انہیں حیران کرنے لگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3112
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 202، حدیث 3125