حدیث نمبر: 3073
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ»
ترجمہ

حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: کیا خیال ہے ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں نیکی کی نیت سے کیا کرتا تھا، جیسے غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی؟ کیا مجھے ان پر اجر ملے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی پہلے کی نیکیوں پر اسلام لائے ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 3073
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 191، حدیث 3086