المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجيُّ، قَالَا: ثنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: لَمَّا صَدَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ شَجَرَاتٍ بِالْبَطْحَاءِ مُتَقَارِبَاتٍ أَنْ يَنْزِلُوا تَحْتَهُنَّ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ فَقُمَّ مَا تَحْتَهُنَّ مِنَ الشَّوْكِ، وَعَمَدَ إِلَيْهِنَّ فَصَلَّى تَحْتَهُنَّ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ نَبَّأَنِيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ إِلَّا نِصْفَ عُمْرِ الَّذِي يَلِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ أَنِّي يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي مَسْئُولٌ، وَإِنَّكُمْ مَسْئُولونَ، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟» قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَجَاهَدْتَ وَنَصَحْتَ، فَجَزَاكَ اللهُ خَيْرًا
فَقَالَ: «أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ جَنَّتَهُ حَقٌّ وَنَارَهُ حَقٌّ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ، وَأَنَّ الْبَعْثَ بَعْدَ الْمَوْتِ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ؟» قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ بِذَلِكَ. قَالَ: «اللهُمَّ اشْهَدْ»
ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ مَوْلَايَ، وَأَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ - يَعْنِي عَلِيًّا - اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطُكُمْ، وَإِنَّكُمْ وارِدُونَ عَلَيَّ الْحَوْضَ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ بُصْرَى وَصَنْعَاءَ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانٌ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا، الثَّقَلُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا وَلَا تَبَدَّلُوا، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ نَبَّأَنِيَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ»…حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو وادی بطحاء میں کچھ قریب قریب درختوں کے نیچے پڑاؤ ڈالنے سے منع فرمایا، پھر کسی کو بھیج کر ان کے نیچے سے کانٹے صاف کروائے، اور خود انہی درختوں کا رخ کر کے ان کے نیچے نماز پڑھی، پھر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! مجھے باریک بین و باخبر اللہ نے بتایا ہے کہ کسی نبی کی عمر اس سے پہلے آنے والے نبی کی عمر کے نصف سے زیادہ نہیں ہوتی، اور مجھے گمان ہے کہ عنقریب مجھے بلایا جائے گا اور میں اس بلاوے کو قبول کروں گا، اور مجھ سے پوچھا جائے گا اور تم سے بھی پوچھا جائے گا، تو تم کیا کہو گے؟“ صحابہ نے عرض کیا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے دین پہنچا دیا، جہاد کیا اور نصیحت کی، اللہ آپ کو بہترین جزا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور اس کی جنت حق ہے اور اس کی جہنم حق ہے، اور موت حق ہے، اور موت کے بعد اٹھایا جانا حق ہے، اور قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ قبروں میں جو ہیں انہیں اٹھائے گا؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ۔“
پھر فرمایا: ”اے لوگو! اللہ میرا ولی ہے، اور میں مومنوں کا ولی ہوں، اور میں ان کی اپنی جانوں سے بھی ان پر زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جس جس کا میں مولا ہوں یہ (یعنی علی) اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“
پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تم سے پہلے حوض پر پہنچنے والا ہوں، اور تم میرے پاس حوض پر آؤ گے، ایسا حوض جس کی چوڑائی بصریٰ اور صنعاء کے درمیان جتنی ہے، اس میں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں، اور جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں تم سے دو بھاری امانتوں کے بارے میں پوچھوں گا، تو دیکھو تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔ بڑی امانت اللہ عزوجل کی کتاب ہے، ایک رسی جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں، تو اسے مضبوطی سے تھامے رکھو تاکہ گمراہ نہ ہو اور نہ بدلو، اور میری عترت، میرے اہلِ بیت دوسری امانت ہیں، کیونکہ باریک بین و باخبر اللہ نے مجھے بتایا ہے کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس اکٹھی آئیں۔“