المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد باب: ابوطفیل عامر بن واثلہ کی سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْمَكِّيِّ أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: إِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ". فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ يَشْقَى مَنْ لَمْ يَعْمَلْ؟ فَلَقِيتُ حُذَيْفَةَ بْنَ أُسَيْدٍ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِي: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ " اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ الْعَبْدَ قَالَ الْمَلَكُ: يَا رَبِّ، أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ مَا شَاءَ، فَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ الْمَلَكُ: يَا رَبِّ، أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، مَا هُوَ لَاقٍ؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ الْمَلَكُ: مَا رِزْقُهُ؟ فَيَقُولُ اللهُ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ مَا أَجَلُهُ؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُابوالطفیل بکری بیان کرتے ہیں: میں نے ابن مسعود کو یہ کہتے سنا: بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھا گیا، اور خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں کے حال سے نصیحت پائے۔ میں نے ان سے پوچھا: جس نے عمل ہی نہیں کیا وہ کیسے بدبخت ہو سکتا ہے؟ تو میں حذیفہ بن اسید سے ملا اور انہیں ابن مسعود کی بات بتائی، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل جب کسی بندے کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: اے رب! نر ہے یا مادہ؟ تو رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ کہتا ہے: اے رب! بدبخت ہے یا خوش نصیب؟ تو رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر کہتا ہے: اے رب! اس کا انجام کیا ہوگا؟ تو رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ کہتا ہے: اس کا رزق کیا ہے؟ تو اللہ جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر کہتا ہے: اے رب! اس کی موت کب ہوگی؟ تو رب جو چاہتا ہے فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے۔“