حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ مَوْلَى الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: " خَرَجْتُ إِلَى الْيَمَنِ فِي إِحْدَى رِحْلَتَيِ الْإِيلَافِ، فَنَزَلْتُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَرَآنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الدُّيُورِ، فَنَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ، فَقَالَ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى بَعْضِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، مَا لَمْ تَكُنْ عَوْرَةً، فَفَتَحَ إِحْدَى مَنْخَرَيَّ فَنَظَرَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي الْآخَرِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ فِي إِحْدَى يَدَيْكَ مُلْكًا، وَفِي الْأُخْرَى نُبُوَّةً، وَإِنَّا لَنَجِدُ ذَلِكَ فِي بَنِي زُهْرَةَ، فَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي. قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ شَاعَةٍ؟ قُلْتُ: وَمَا الشَّاعَةُ؟ قَالَ: زَوْجَةٌ. قُلْتُ: أَمَّا الْيَوْمَ فَلَا. قَالَ: فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ فِي بَنِي زُهْرَةَ. فَرَجَعَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ، فَتَزَوَّجَ هَالَةَ بِنْتَ وُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ، فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ وَصَفِيَّةَ، وَزَوَّجَ عَبْدَ اللهِ ابْنَهُ آمِنَةَ بِنْتَ وَهْبٍ، فَقَالَتْ قُرَيْشٌ: نَتَجَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ عَلَى ابْنِهِ، فَوَلَدَتْ لَهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ حَمْزَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْهُمَا ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةُ أَبِي لَهَبٍ، وَكَانَ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ

ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، عبدالمطلب نے فرمایا: میں ایلاف کے سفروں میں سے ایک سفر میں یمن گیا، تو ایک یہودی کے ہاں ٹھہرا، مجھے ایک راہب (خانقاہ والوں میں سے ایک شخص) نے دیکھا، اس نے میرا نسب پوچھا تو میں نے اپنا نسب بتایا۔ اس نے کہا: کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ کے جسم کا کچھ حصہ دیکھوں؟ میں نے کہا: ہاں، بشرطیکہ وہ ستر (پردے کی جگہ) نہ ہو۔ تو اس نے میرا ایک نتھنا کھول کر دیکھا، پھر دوسرے میں دیکھا، اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تمہارے ایک ہاتھ میں بادشاہت ہے اور دوسرے میں نبوت، اور ہم یہی چیز بنی زہرہ میں بھی پاتے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم۔ اس نے پوچھا: کیا تمہاری کوئی ”شاعہ“ ہے؟ میں نے پوچھا: شاعہ کیا ہے؟ اس نے کہا: بیوی۔ میں نے کہا: آج تو نہیں۔ اس نے کہا: تو جب واپس جاؤ تو بنی زہرہ میں شادی کرنا۔ چنانچہ عبدالمطلب واپس آئے اور ہالہ بنت وہیب بن عبد مناف بن زہرہ سے نکاح کیا، جس سے حمزہ اور صفیہ پیدا ہوئے، اور اپنے بیٹے عبداللہ کی شادی آمنہ بنت وہب سے کروائی، تو قریش نے کہا: عبدالمطلب نے اپنے بیٹے کے لیے بھی وہی کیا، پھر آمنہ سے رسول اللہ ﷺ پیدا ہوئے۔ چنانچہ حمزہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے رضاعی بھائی تھے، دونوں کو ابولہب کی باندی ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، اور حمزہ رسول اللہ ﷺ سے عمر میں بڑے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2904
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 137، حدیث 2917