حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ أَنَّهُ سَمِعَ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّأَ لِابْنِ صَائِدٍ دُخَانًا، فَسَأَلَهُ عَمَّا خَبَّأَ لَهُ، فَقَالَ: دُخْ، فَقَالَ: «اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ» . فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا قَالَ؟» فَقَالَ بَعْضُهُمْ: دُخْ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَالَ زُخْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدِ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ، فَأَنْتُمْ بَعْدِي أَشَدُّ اخْتِلَافًا»
ترجمہ

سنان بن ابی سنان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے ابن صیاد کے لیے دل میں دھواں چھپایا، پھر اس سے پوچھا کہ آپ نے کیا چھپایا ہے۔ اس نے کہا: دُخ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دور ہو، تو اپنی اوقات سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔“ جب وہ پلٹ کر گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس نے کیا کہا تھا؟“ کسی نے کہا: دُخ، اور کسی نے کہا: نہیں، اس نے زُخ کہا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اختلاف کر لیا حالانکہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں، تو میرے بعد تم اور بھی زیادہ اختلاف کرو گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2895
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 134، حدیث 2908