حدیث نمبر: 2853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْجَصَّاصُونَ، قَالُوا: " كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا بِاللَّيْلِ إِلَى الْجَبَّانَةِ عِنْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَمِعَنَا الْجِنَّ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ:
[البحر الكامل]
مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ ... فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ
أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْشٍ ... جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ "
ترجمہ

چونا لگانے والے (جصاص) کاریگر بیان کرتے ہیں: جب ہم رات کے وقت حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کے پاس قبرستان کی طرف نکلتے تو ہم جنوں کو سنتے کہ وہ ان پر نوحہ کرتے ہوئے کہتے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا، اسی لیے اس کے رخساروں پر ایک چمک تھی۔
اس کے والدین قریش کے اعلیٰ ترین خاندان سے تھے، اس کا نانا سب نانوں میں بہترین تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2853
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 122، حدیث 2866