المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه، يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه وأمه باب: سیدنا حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، کنیت ابوعبداللہ، ان کی ولادت، صفت اور ہیئت کا ذکر، رضی اللہ عنہ و کرم اللہ وجہہ، اور ان کے والد اور والدہ کے بارے میں
حدیث نمبر: 2853
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الطُّفَيْلِ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ، حَدَّثَنِي الْجَصَّاصُونَ، قَالُوا: " كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا بِاللَّيْلِ إِلَى الْجَبَّانَةِ عِنْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَمِعَنَا الْجِنَّ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ:
[البحر الكامل]
مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ ... فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ
أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْشٍ ... جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ "ترجمہ
چونا لگانے والے (جصاص) کاریگر بیان کرتے ہیں: جب ہم رات کے وقت حسین رضی اللہ عنہ کے مقتل کے پاس قبرستان کی طرف نکلتے تو ہم جنوں کو سنتے کہ وہ ان پر نوحہ کرتے ہوئے کہتے: ”رسول اللہ ﷺ نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا، اسی لیے اس کے رخساروں پر ایک چمک تھی۔
اس کے والدین قریش کے اعلیٰ ترین خاندان سے تھے، اس کا نانا سب نانوں میں بہترین تھا۔“