حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ الْحِزَامِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَى الْكُوفَةِ سَاخِطًا لِوِلَايَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ وَهُوَ وَالِيهِ عَلَى الْعِرَاقِ: إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ حُسَيْنًا قَدْ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الْأَزْمانِ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ الْبُلْدَانِ، وابْتُلِيتَ بِهِ مِنْ بَيْنِ الْعُمَّالِ، وَعِنْدَهَا يُعْتَقُ أَوْ يَعُودُ عَبْدًا كَمَا يُعْتَبَدُ الْعَبِيدُ ". فَقَتَلَهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحُمَامِ:
[البحر الطويل]
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ ... إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا "
ترجمہ

محمد بن ضحاک اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: حسین بن علی رضی اللہ عنہما یزید بن معاویہ کی ولایت (حکومت) سے ناراض ہو کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے، تو یزید بن معاویہ نے عبیداللہ بن زیاد کو، جو عراق پر اس کا والی تھا، لکھا: مجھے خبر ملی ہے کہ حسین کوفہ کی طرف چل پڑا ہے، اور تمہارے دور کو تمام ادوار میں سے اسی سے آزمایا گیا ہے، اور تمہارے شہر کو تمام شہروں میں سے اسی سے آزمایا گیا ہے، اور تمہیں تمام عاملوں میں سے اسی سے آزمایا گیا ہے، اور اب یا تو تم آزاد ثابت ہو گے یا پھر غلاموں کی طرح غلام بن کر رہ جاؤ گے۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد نے انہیں قتل کر دیا، اور ان کا سر یزید کے پاس بھیج دیا۔ جب وہ سر اس کے سامنے رکھا گیا تو اس نے حسین بن حمام کا یہ شعر پڑھا: ”ہم اپنے پیارے لوگوں کی کھوپڑیاں توڑ ڈالتے ہیں، حالانکہ وہ ہم سے بڑھ کر نافرمان اور ظالم تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2833
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 115، حدیث 2846