حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي جَمِيلَةَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتُخْلِفَ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ وَثَبَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَطَعَنَهُ بِخِنْجَرٍ فِي وَرِكِهِ، فَتَمَرَّضَ مِنْهَا أَشْهُرًا، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَقَالَ: " يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ اتَّقُوا اللهَ فِينَا، فَإِنَّا أُمَرَاؤُكُمْ وَضِيفَانُكُمْ، وَنَحْنُ أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] . فَمَا زَالَ يَوْمَئِذٍ يَتَكَلَّمُ حَتَّى مَا يُرَى فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَاكِيًا
ترجمہ

ابوجمیلہ کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا، تو ایک بار وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے کہ ایک شخص ان پر جھپٹا اور خنجر سے ان کے پٹھے میں وار کیا، تو وہ کئی مہینے اس کی وجہ سے بیمار رہے۔ پھر وہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے اور فرمایا: ”اے اہلِ عراق! ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو، ہم تمہارے حکمران اور تمہارے مہمان ہیں، اور ہم وہی اہل بیت ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ [سورۃ الاحزاب: 33]۔“ وہ اس دن مسلسل بولتے رہے یہاں تک کہ مسجد میں کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو رو نہ رہا ہو۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2748
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 93، حدیث 2761