❮
❯
حدیث نمبر: 2747
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ نَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللهِ؟ قَالَ: أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللهِ بَارِئًا. قَالَ: كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللهُ. ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَسْنِدُوني. فَأَسْنَدَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يُقَالُ لَهَا شَجَرَةُ الْبَلْوَى، يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةَ، فَلَا يُرْفَعُ لَهُمْ دِيوَانٌ، وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ، يُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبًّا» ، وَقَرَأَ: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} [الزمر: ١٠]
ترجمہ

اصبغ بن نباتہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے رسول اللہ کے بیٹے! تمہاری صبح کیسی ہوئی؟ انہوں نے کہا: اللہ کا شکر ہے، میں صحت یاب ہو کر صبح کی۔ فرمایا: ان شاء اللہ ایسا ہی ہو گا۔ پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سہارا دو۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سینے سے ٹیک لگوائی، تو انہوں نے فرمایا: میں نے اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جنت میں ایک درخت ہے جسے شجرۃ البلویٰ (آزمائش کا درخت) کہا جاتا ہے، قیامت کے دن آزمائش زدہ لوگوں کو لایا جائے گا، تو نہ ان کا کوئی رجسٹر کھولا جائے گا اور نہ ان کے لیے کوئی میزان رکھا جائے گا، ان پر اجر خوب انڈیلا جائے گا۔“ اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بےحساب پورا پورا دیا جائے گا“ [سورۃ الزمر: 10]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2747
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 92، حدیث 2760