حدیث نمبر: 2714
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ بَدْرِ بْنِ الْخَلِيلِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي كَبِيرٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: لَقَدْ سَبَّ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سَبًّا قَبِيحًا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ حُدَيْجٍ تَعْرِفُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: إِذَا رَأَيْتَهُ فَائْتِنِي بِهِ. قَالَ: فَرَآهُ عِنْدَ دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، فَأَرَاهُ إِيَّاهُ، قَالَ: أَنْتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ حُدَيْجٍ؟ فَسَكَتَ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «أَنْتَ السَّبَّابُ عَلِيًّا عِنْدَ ابْنِ آكِلَةِ الْأَكْبادِ، أَمَا لَئِنْ وَرَدْتَ عَلَيْهِ الْحَوْضَ، وَمَا أَرَاكَ تَرِدُهُ، لَتَجِدَنَّهُ مُشَمِّرًا حَاسِرًا ذِرَاعَيْهِ يَذُودُ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا تُذَادُ غَرِيبَةُ الْإِبِلِ عَنْ صَاحِبِهَا، قَوْلُ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

… (کسی نے پوچھا:) کیا تم معاویہ بن حدیج کو پہچانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: جب اسے دیکھو تو میرے پاس لے آؤ۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اسے عمرو بن حریث کے گھر کے پاس دیکھا، تو اسے دکھا دیا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم معاویہ بن حدیج ہو؟ وہ خاموش رہا اور تین بار جواب نہ دیا، پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم وہی ہو جو جگر کھانے والی کے بیٹے کے پاس علی کو گالیاں دیتے ہو؟ سن لو، اگر تم حوض پر ان کے پاس پہنچے - اور میرا خیال نہیں کہ تم وہاں پہنچ سکو گے - تو انہیں پاؤ گے کہ وہ آستینیں چڑھائے، بازو کھولے، کافروں اور منافقوں کو رسول اللہ ﷺ کے حوض سے دور بھگا رہے ہوں گے، جیسے اجنبی اونٹ اپنے مالک سے دور بھگایا جاتا ہے، یہ اس سچے اور تصدیق شدہ ابوالقاسم ﷺ کا قول ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2714
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 81، حدیث 2727