المعجم الكبير للطبراني
باب الحاء— حرف حا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
معاوية بن حديج عن الحسن بن علي رضي الله عنه باب: معاویہ بن حدیج کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ رَحِمَهُ اللهُ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَخْطُبُ عَلَى يَزِيدَ بِنْتًا لَهُ أَوْ أُخْتًا لَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ يَزِيدَ، فَقَالَ: إِنَّا قَوْمٌ لَا تُزَوَّجُ نِسَاؤُنَا حَتَّى نَسْتَأْمِرَهُنَّ، فَائْتِهَا. فَأَتَيْتُهَا فَذَكَرْتُ لَهَا يَزِيدَ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَاكَ حَتَّى يَسِيرَ فِينَا صَاحِبُكَ كَمَا سَارَ فِرْعَوْنُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَذْبَحُ أَبْنَاءَهُمْ، وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ. فَرَجَعْتُ إِلَى الْحَسَنِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى فِلْقَةٍ مِنَ الْفَلَقِ تُسَمِّي أَمِيرَ الْمُؤْمِينَ فِرْعَوْنَ. فَقَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ إِيَّاكَ وبُغْضَنَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُنَا وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا زِيدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسِياطٍ مِنْ نَارٍ»معاویہ بن حدیج کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں یزید کے لیے ان کی بیٹی یا ان کی بہن کا رشتہ مانگوں۔ میں ان کے پاس آیا اور ان سے یزید کا ذکر کیا، تو انہوں نے فرمایا: ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہماری عورتوں کا نکاح ان سے مشورہ لیے بغیر نہیں کیا جاتا، لہٰذا تم اس کے پاس جاؤ۔ میں اس کے پاس گیا اور اس سے یزید کا ذکر کیا، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تمہارا صاحب ہمارے ساتھ وہی سلوک نہ کرے جو فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا، کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹا اور عرض کیا: آپ نے مجھے ایک ایسی آفت کی طرف بھیجا جو امیر المومنین کو فرعون کہتی ہے۔ تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے معاویہ! ہم سے بغض رکھنے سے بچو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہم سے بغض یا حسد رکھے گا، قیامت کے دن اسے آگ کے کوڑوں کا اضافہ دیا جائے گا۔“