حدیث نمبر: 2700
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ أَبُو إِبْرَاهِيمَ الْفَزَارِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الزَّرَّادِ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ: لَقِيتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْبَصْرَةِ، فَقُلْتُ: بِنَفْسِي أَنْتَ مَا حَفِظْتَ عَنْ أَبِيكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَلَّمَنِي كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ. قُلْتُ: مَا هِيَ؟ قَالَ: «اللهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ» . قُلْتُ: بِنَفْسِي مَا حَفِظْتَ عَنْهُ غَيْرَ هَذَا؟ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فِي حَائِطِ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً، فَأَدْخَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ حَتَّى أَخْرَجَهَا، وَقَالَ: «أَيْ بُنَيَّ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ؟»
ترجمہ

راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں، آپ نے اپنے نانا محمد ﷺ سے کیا یاد رکھا؟ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انہوں نے مجھے چند کلمات سکھائے جو میں وتر میں کہتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: وہ کیا ہیں؟ فرمایا: ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی، اور مجھے اپنا دوست بنا ان لوگوں میں جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا، اور مجھے برکت دے اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا، اور مجھے اس کے شر سے بچا جو تو نے مقرر کیا؛ بے شک تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔“ میں نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں، کیا آپ نے اس کے علاوہ بھی ان سے کچھ یاد رکھا؟ فرمایا: میں ان کے ساتھ صدقے کے باغ میں چل رہا تھا، تو میں نے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے منہ میں ڈالا یہاں تک کہ اسے نکال لیا، اور فرمایا: ”اے میرے بیٹے! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم ایک ایسا گھرانہ ہیں جس کے لیے صدقہ حلال نہیں؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الحاء / حدیث: 2700
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 77، حدیث 2713